سیرت کے قدیم مآخذ: قرآن پاک کی روشنی میں

یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر جتنا کچھ لکھا گیا ہے پوری تاریخ انسانی میں کسی اورکی حیات پرنہیں لکھا گیا آپ کے ماننے والوں نے بھی آپ پر جی کھول کرلکھا ہے اور نہ ماننے والوں نے
بھی، یہ الگ بات ہے کہ ان کے جذبات و محرکات الگ الگ رہے ہیں۔

ماننے والون نے عموما اس جذبے سے لکھا ہے کہ دنیا کے سامنے زیادہ سے زیادہ آپ کا تعارف کرایا جائے سیرت پاک کے دلکش گوشے سامنے لائے جائیں، جن سے آپ کے ماننے والوں میں عمل کا جذبہ بیدار ہو اور نہ ماننے والوں کی غلط فہمیاں دور ہوں، انھیں آپ کی دعوت، اورآپ کا مشن سمجھنے میں آسانی ہو۔
اس کے برعکس جو آپ کے مخالفین تھے، ان کے پیش نظریہ رہا ہے کہ جس قدر ہوسکے آپ کی شبیہ بگاڑی جائے، دنیا کو آپ سے متنفر کیا جائے، آپ کو محسن انسانیت، یا نبی رحمت کی حیثیت سے نھیں، بلکہ ایک ظالم وجابرحکمراں کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔
یہ کام انہوں نے پوری دلیری اور نہایت ڈھٹائی سے کیا، اوردروغ بیانی اور جعل سازی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
ظا ہرہے اس طرح کے لوگوں سے نہ ہمیں کوئی دلچسپی ہے، نہ ان کے کام پر تبصرہ کرنے کا کوئی حاصل ۔
البتہ آپ کے ماننے والوں، یعنی مسلم سیرت نگاروں نے آپ کی سیرت پرجوکچھ لکھا ہے، اس کا باربار جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہ رہ جائے، کہ ا س میں کوئی غلطی رہ جانا بہت بڑا جرم، اور اپنے نبی ﷺ پر کھلا ہوا ظلم ہے !
اس حیثیت سے جب ہم تاریخ وسیرت کی کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں تعجب یا افسوس ہی نھیں ہوتا، بلکہ جھٹکے لگتے ہیں،ایک دوبار نہیں، باربار لگتے ہیں! حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے مسلم مورخین یا سیرت نگاروں نے ایسی فاش غلطیاں کیوں کر کیں !
اگر اکا دکا سیرت نگاروں سے اس طرح کی غلطیاں سرزد ہوئی ہوتیں، تو کچھ زیادہ تعجب خیز نہ تھا، لیکن اس کو کیا کیجیے کہ یہاں معاملہ کسی ایک دو کا نہیں، جمّ غفیر کا ہے۔ محتاط ترین الفاظ میں مسلم مورخین یا سیرت نگاروں کی عظیم ا کثریت کا ہے۔
علامہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ سیرت النبی کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں :
﴿خاص سیرت پرآج تک کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی جس میں صرف صحیح روایتوں کا التزام کیا جاتا، حافظ زین الدین عراقی جو حافظ ابن حجر کے استاد تھے، سیرت نبوی میں لکھتے ہیں:
و لیعلم الطالب اٗن السیرا
تجمع ما صحّ وما قد اٗنکرا
﴿یعنی طالب فن کو جاننا چا ہیے کہ سیرت میں ہر قسم کی چیزیں نقل کی جاتی ہیں،صحیح بھی،اور قابل انکار بھی۔﴾
یہی سبب ہے کہ مستند اور مسلم الثبوت تصنیفات میں بھی بہت سی ضعیف روایتیں شامل ہو گئیں۔﴾
﴿سیرة النبی: ۱/۹ ، ١۰﴾
علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ، یا حافظ زین الدین عراقی ؒ کی گفتگو کواور آگے بڑھاتے ہوئے راقم الحروف یہ کہنے کی جراٴت کرتا ہے، کہ یہاں مسئلہ محض ان روایتوں کا نہیں ہے جو محدثین کرام کی اصطلاحات کی رو سے کمزور، یا ضعیف کہی جاتی ہیں، یا دوسرے لفظوں میں مسئلہ محض سیرت اور تاریخ کی کتابوں کا نہیں، بلکہ وہ ساری کتابیں جو سیرت رسول کے بنیادی مآخذ میں شمار ہوتی ہیں، چاہے وہ صحاح ستہ ہوں، یاروایات واحادیث کے دیگر مجموعے، وہ سب ایسی روایات سے خالی نہیں، جو جمال سیرت کو یکسر داغ دار کرتی، اور عظمت نبوت کو صاف صاف چیلنج کرتی ہیں۔
یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے،جسے کلیجے پر سل رکھ کرہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے، کہ دشمنان اسلام، یا دشمنان رسالت نے شان رسالت میں جو گستاخیاں کی ہیں، ان کے لیے شہ ان کوانہی روایتوں سے ملی ہے !
ام المومنین حضرت زینبؓ بنت جحش کے بیان میں علامہ شبلیؒ رقم طراز ہیں:
﴿واقعہ کی اصل اور سادہ حقیقت یہ تھی، مخالفوں نے اس واقعہ کوجس طرح بیان کیا ہے، گو سرتا پا کذب وافتراءہے،لیکن ہم کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے رنگ آرائی کے لیے سیاہی ہمارے ہی ہاں سے مستعار لی ہے!﴾
﴿سیرة النبی جلد اول،ص:443﴾
گو یہ بات علامہ شبلی نے کتب تاریخ و تفسیر کے سیاق میں لکھی ہے، لیکن کتب حدیث یا صحاح ستہ پر بھی یہ بات اسی طرح صادق آتی ہے، جس طرح کتب تاریخ یا کتب تفسیر پر صادق آتی ہے۔
ازواج مطہرات سے ایلاء:
اپنی اس بات کی تائید میں ہم قصہٴ ایلاء کو پیش کر سکتے ہیں، تقریبا تمام ہی کتب حدیث، بشمول صحاح ستہ اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ازواج مطہرات سے ایلاء کرلیا تھا۔
اس سلسلے میں صحیح بخاری میں متعدد روایات آ ئی ہیں، ایک روایت ہے، جو خالد بن مخلد کے واسطے سے آئی ہے، وہ کہتے ہیں :
حضرت انسؓ نے فرمایا : پھر رسول اﷲ ﷺ نے ایک ماہ کے لیے اپنی بی بیوں سے ایلاء کرلیا، اور اپنے ایک بالاخانے میں جا بیٹھے، ۲۹ دن ہوگئے تب نیچے تشریف لائے، عرض کیا گیا : اﷲ کے رسول ! آپ نے توایک مہینے کے لیے ایلاء فرمایا تھا! آپ نے فرمایا : یہ مہینہ ۲۹ دن کا ہے ۔
ایک دوسری روایت ہے یحیی بن بکیرکی، جو کافی طویل ہے، یہ حضرت عبداﷲ بن عباس کے واسطے سے آئی ہے، وہ فرماتے ہیں:
﴿ایک زمانے سے میں اس فکر میں تھا کہ حضرت عمر سے پوچھوں: ازواج رسول میں سے وہ دونوں بی بیاں کون ہیں جن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے :
﴿ان تتوبا الی اﷲ فقد صغت قلوبکما ۔۔۔ سورہ تحریم : 4﴾
﴿اگر تم دونوں اﷲ کی طرف رجوع ہوتی ہو، یا توبہ کرتی ہو، تو تم سے اسی کی توقع ہے، کیونکہ تمہارے دل تواﷲ کی طرف مائل ہیں ہی﴾
چنانچہ ایک حج کے موقع پر مجھے یہ پوچھنے کا موقع مل گیا، حضرت عمر نے فرمایا: تعجب ہے تمہیں اب تک یہ بات نہیں معلوم، وہ عائشہ اور حفصہ ہیں۔
انہوں نے فرمایا : ہم قبیلہٴ قریش کے لوگ عورتوں کو دبا کے رکھتے تھے،مدینہ آئے تو یہاں صورت حال برعکس تھی، یہاں عورتیں مردوں کو دباکے رکھتی تھیں، انصاری عورتوں کے ساتھ رہنے سے ہماری عورتوں میں بھی یہ بات آگئی، میں نے ایک روز اپنی بیوی کو ڈانٹا، تو وہ لگی زبان لڑانے! مجھے یہ بات بہت ناگوار گذری، اس نے کہا:
میرا جواب دینا آپ کو کیوں برا لگ رہا ہے؟ بخدا نبی ﷺ کی بیویاں توآپ کو دو بدوجواب دیتی ہیں، پورا پورا دن ،اورپوری پوری رات گزرجاتی ہے، وہ آپ کی طرف منہ اٹھاکر نہیں دیکھتیں۔
یہ سن کر میرے ہوش اڑ گئے، میں نے کہا، بہت ہی بدنصیب ہے وہ عورت جو آپ کے ساتھ ایسا کرتی ہے۔
میں نے اپنے کپڑے تبدیل کیے، بھاگا ہوا حفصہ کے ہاں گیا، پوچھا : حفصہ! کیا یہ صحیح ہے کہ تم لوگ دن دن بھر رسول خدا سے روٹھی رہتی ہو؟ اس نے کہا : ہاں، میں نے کہا: پھر تو بہت بدنصیب ہو تم! کیا تمہیں یہ ڈر نہیں لگتا کہ رسول خدا کی ناراضگی کے نتیجہ میں اﷲ نہ ناراض ہو جائے، اور تم برباد ہو کے رہ جاﺅ ؟ رسول خدا سے زیادہ مطالبے نہ کیا کرو، کبھی کسی بات کا جواب نہ دو، آپ سے کبھی روٹھو نہیں، تمہیں جو ضرورت ہو مجھ سے مانگو، کبھی اس غرّے میں نہ آنا کہ تمہاری سہیلی تم سے زیادہ چمک دار، اور رسول خدا کو زیادہ پیاری ہے ۔ (اس سے ان کا اشارہ حضرت عائشہؓ کی طرف تھا﴾
پھر ایسا ہوا کہ چند ہی دنوں بعد کچھ رات گئے میرا ساتھی میرے دروازے پر آیا، وہ لگا زور زور سے دروازہ پیٹنے، وہ کہہ رہا تھا، کیا عمر سوگئے؟ کیا عمر سوگئے؟ میں گھبرا گیا، فورا نکل کے باہر آیا، اس نے کہا، بڑا برا ہو گیا، میں نے پوچھا کیا ہوا، غسّانی گھس آئے کیا؟ کہا: نہیں، اس سے بھی بڑی بات ہوگئی، ﷲ کے رسول نے ساری بی بیوں کو طلاق دیدی !
میری زبان سے نکلا: حفصہ کا تو بیڑا غرق ہوا، مجھے اسی کا ڈر تھا !
میں نے اپنے کپڑے تبدیل کیے، جاکر فجر کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کی، پھر آپ بالا خانے پر چلے گئے، تن تنہا، ساتھ میں کوئی نہیں تھا، میں حفصہ کے پاس چلا گیا، اسے روتی ہوئی پایا۔
میں نے کہا: رو کیوں رہی ہو؟ میں نے تمہیں خبردار نہیں کیا تھا؟ کیا یہ سچ ہے کہ اﷲ کے رسول نے تم سب کو طلاق دیدی؟ وہ بولی، مجھے نہیں معلوم،البتہ آپ اپنے بالاخانے پر چلے گئے ہیں ۔
میں حجرے سے نکل کر منبر کے پاس آیا، وہاں کچھ لوگوں کو روتا ہوا پایا، میں کچھ دیر انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھا رہا، صدمے سے برا حال ہورہا تھا، اٹھ کربالاخانے کے پاس آیا، آپ کے خادم سے کہا، جو سیہ فام تھا: عمر کے لیے اجازت طلب کرو، وہ اندر گیا، آپ کو بتایا، پھرباہر آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کے لیے پوچھا، کوئی جواب نہیں ملا، میں واپس آگیا، جو لوگ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہی کے پاس دوبارہ جاکر بیٹھ گیا، مجھ سے زیادہ دیر رہا نہیں گیا، لوٹ کے پھر خادم کے پاس آیا، اس سے کہا: جاﺅ عمر کے لیے اجازت طلب کرو، اس نے پھر وہی بات دہرائی، میں واپس آنے لگا، یکایک اس خادم کے پکارنے کی آواز سنائی دی، وہ کہہ رہا تھا: آئیے، اجازت مل گئی، میں اندر داخل ہوگیا، آپ ایک پرانی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، اس چٹائی پر کوئی چیز بھی بچھی ہوئی نہیں تھی، آپ کے پہلو پر چٹائی کے گہرے نشانات پڑ گئے تھے، چٹائی کے ساتھ چمڑے کا ایک تکیہ تھا، جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، اور کھڑے ہی کھڑے سوال کیا: کیا آپ نے بی بیوں کو طلاق دے دی ہے ؟آپ نے نگاہ میری طرف اٹھائی، فرمایا : نہیں۔
پھر کچھ اور باتیں کرنے کے بعد حضرت عمر نے عرض کیا: اﷲ کے رسول میرے لیے مغفرت کی دعا کردیجیے ۔
قصہ کوتاہ، رسول اﷲ ﷺ عزلت گیر ہوگئے تھے اسی بات پرجو حفصہ نے عائشہ کو بتادی تھی۔ آپ نے فرمایا:
میں ایک ماہ تک ان سبھوں کے پاس نہیں جاوٴں گا، آپ کو شدید غم تھا اس عتاب کا جو اﷲ کی طرف سے آپ پر ہوا تھا۔
جب ۲۹ دن ہوگئے تو آپ سب سے پہلے عائشہ کے پا س تشریف لے گئے، عائشہ نے عرض کیا: آپ نے تو قسم کھائی تھی پورے ایک ماہ ہمارے پاس نہیں آئیں گے،ابھی تو آج ۲۹/تاریخ ہے! رسول خدا نے فرمایا: یہ مہینہ ۲۹ دن کا ہے۔ وہ مہینہ سچ مچ ۲۹ ہی دن کا تھا۔
عائشہ کہتی ہیں: اسی دوران میں آیت تخییر نازل ہو گئی تھی، اس کی اطلاع سب سے پہلے آپ نے مجھے دی، فرمایا :
میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، کوئی حرج نہیں اگر تم جلد بازی سے کام نہ لو، اوراپنے والدین سے بھی مشورہ کرلو۔
انہوں نے عرض کیا: میں اچھی طرح جانتی ہوں، میرے والدین کبھی بھی آپ سے الگ ہونے کا مشورہ نہیں دے سکتے، آپ نے فرمایا: اﷲ تعالی کا ارشاد ہے: (یاایہا النبی قل لازواجک ۔۔۔۔۔ الی قولہ: عظیما ﴾
﴿اے نبی! کہو اپنی بیویوں سے، اگر تم یہ زندگی اور اس کی زینتیں چاہتی ہو تو آؤ، میں سازوسامان سے آراستہ کرکے، خوبصورتی سے تمہیں رخصت کردیتا ہوں، اور اگرتم اﷲ کو، اس کے رسول کو، اوردار آخرت کو چاہتی ہو، تو اﷲ نے تم جیسی نیک فطرت عورتوں کے لیے اجر عظیم تیار کررکھا ہے۔
اے نبی کی بی بیو! تم میں سے جو کھلی ہوئی بے حیائی کا مرتکب ہوگا، اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اور یہ اﷲ کے لیے بہت آسان ہے، اور تم میں سے جو ﷲ اور اس کے رسول کا فرماں بردار ہوگا، اور نیک روش اختیار کرے گا، تو ہم اسے اس کا صلہ دیں گے بڑھا چڑھا کے، اور اس کے لیے ہم نے تیار کر رکھی ہیں نہایت عمدہ نعمتیں۔
﴿اے نبی کی بی بیو! تمہاری حیثیت عام عورتوں جیسی نہیں ہے، اگر تم اﷲ سے ڈرتی ہو، تو اتنی نرم اور پست آواز سے بات نہ کرو، کہ جس کے دل میں بیماری ہو، اسے کچھ امید بندھ جائے، اور وہ بات کہو جو تمہارے شایان شان ہو۔﴾
یہ آیتیں سن کرمیں نے عرض کیا: کیا میں اس بارے میں والدین سے پوچھنے جاوٴں گی ؟ میں تو اﷲ ،اس کے رسول،اور دارآخرت کو چاہتی ہوں۔
پھر آپ نے بقیہ ازواج کو بھی اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع دیا۔
ان سبھوں نے وہی جواب دیا، جوجواب عائشہ نے دیا۔
﴿صحیح البخاری، باب الغرفة والعلیة:۲۔۸۷١۔ ۲۳۳٦﴾
یہ دو روایتیں ہیں، ان کے علاوہ اور بھی کئی روایتیں ہیں، جو ایلاء سے متعلق صحیح بخاری میں آئی ہیں۔ ان روایات پر غور کیا جائے تو بہت سی الجھنیں ذہن میں پیدا ہوتی ہیں، وہ الجھنیں ایسی ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پہلی الجھن:
ایلاء دور جاہلیت کی یادگار،اورکافروں کی ایک ظالمانہ رسم تھی، جس سے قرآن نے صاف صاف منع کیا ہے، اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:
وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً ِلأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (224). لاَ يُؤَاخِذُكُمْ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ (225). لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226). وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (227).البقرة: ٢٢٤ – ٢٢٧
﴿اﷲ کو نشانہ نہ بناوٴ اپنی اس طرح کی قسموں کا کہ تم حق نہیں ادا کروگے، ﷲ سے نہیں ڈروگے، لوگوں کے درمیان مصالحت نہیں کراوٴگے ، اور اﷲ سننے والا، اور جاننے والا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے قطع تعلق کی قسمیں کھاتے ہیں، تو ان کے لیے چار مہینوں کی مہلت ہے، اب اگر وہ رجوع کرلیتے ہیں تو اﷲ معاف کرنے والا، اوررحم فرمانے والا ہے، اوراگروہ طلاق کا فیصلہ کرتے ہیں، تو اﷲ سننے والا اور جاننے والا ہے۔﴾
علامہ ابن عاشورؒ نے اپنی مشہور تفسیر(التحریروالتنویر) میں ان آیتوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: اس میں خبردار کیاگیا ہے اس بات سے کہ ایلاء حرام ہے۔
ایسی صورت میں یہ بات کیوں کر تسلیم کی جاسکتی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا؟ کیا یہ بات قابل تصور ہے کہ آپ کا کوئی بھی عمل قرآنی تعلیمات کے خلاف ہو؟
دوسری الجھن:
کیا کسی ایک بھی مسلمان، یا کسی ایک بھی صحابی رسول نے ان آیات کے نزول کے بعد اپنی کسی بیوی سے ایلاء کیا ہے؟ اگر نہیں، اور یقینا نہیں، تو پھر آپ کے ساتھ وہ کیا ناگزیر اسباب تھے، جن کے تحت آپ ایلاء کرنے پر مجبور ہوئے؟
تیسری الجھن:
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایلاء کے دوران نہ صرف ازواج مطہرات سے آپ علیحدہ رہے، بلکہ تمام صحابہ پورے ایک ماہ تک آپ کی صحبت سے محروم رہے، نہ صرف صحبت سے محروم رہے، بلکہ آپ کو ایک نظر دیکھنے کے لیے ترس گئے، تو کیا یہ بات قابل تصور ہے؟ کیا یہ بات ممکن ہے کہ اگر کسی وجہ سے آپ ازواج مطہرات سے ناراض ہوں، تو ساری دنیا سے یکسر کٹ جائیں ؟
چوتھی الجھن:
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے عرصے میں آپ نے نمازیں صحابہ کے ساتھ مسجد میں نہیں ادا کیں، آپ کے معمولات زندگی میں نماز با جماعت کا جو غیر معمولی اہتمام تھا، کیا اس سے یہ چیز میل کھاتی ہے؟
پانچویں الجھن :
روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اسی زمانے میں آپ گھوڑے سے گرگئے تھے، جس سے کافی چوٹ آگئی تھی، بالاخانے سے اترنا چڑھنا دشوار تھا، سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں بالاخانے میں قیام کیا ضروری تھا؟ کیا نیچے قیام کرنے کی کوئی صورت ممکن نہیں تھی؟ اور کیا اتنی گہری چوٹ آنے کی صورت میں صحابہ کرام، یاازواج مطہرات نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا کہ آپ کے پاس نہ کوئی معالج تھا، نہ تیماردار؟
چھٹی الجھن:
صحیح بخاری کی متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حفصہؓ سے آپ نے کوئی راز کی بات کہی تھی، حضرت حفصہؓ نے وہ بات حضرت عائشہؓ کوبتادی، اس سے آپ کو ناگواری ہوئی، اورآپ نے ایک ماہ کے لیے قطع تعلق کی قسم کھالی۔
کچھ دو سری روایات ہیں جن سے ایک دوسری وجہ سامنے آتی ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت ہے حضرت جابربن عبداﷲ کے واسطہ سے، وہ فرماتے ہیں :
حضرت ابوبکرؓ آئے رسو ل اللہ سے ملاقات کی اجازت طلب کرنے، تو دیکھا بہت سارے لوگ دروازے پر بیٹھے ہوئے ہیں، کسی کو اجازت نہیں مل رہی ہے اندر جانے کی، وہ کہتے ہیں ابوبکر کو اجازت مل گئی، وہ اندر چلے گئے، پھر حضرت عمر آئے، انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں بھی اجازت مل گئی،انہوں نے دیکھا نبی ﷺ چپ چاپ بیٹھے ہوئے ہیں، چہرہ مبارک پر غم کے آثار ہیں، اور آپ کے آس پاس ازواج بیٹھی ہوئی ہیں، حضرت عمر نے سوچا، میں ایسی بات کہوں گا جس سے آپ کو ہنسی آجائے۔
وہ بولے: اﷲ کے رسول! دیکھنے کے قابل تھا وہ منظر، جب خارجہ کی بیٹی (زوجہ عمرؓ) نے نان نفقہ بڑھانے کی بات کی، اس وقت میں اٹھا اور میں نے اس کی گردن موڑدی، یہ بات سن کر آپ کو ہنسی آگئی، فرمایا :
دیکھو یہ سب میرے گرد بیٹھی ہیں، یہ سب بھی مجھ سے نفقہ بڑھانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔
اسی وقت ابوبکرؓ عائشہؓ کی طرف بڑھے،ان کی گردن موڑی،عمرؓ حفصہؓ کی طرف لپکے، ان کی گردن موڑی، اور دونوں کی زبان پر تھا: تم لوگ اﷲ کے رسول سے وہ مطالبے کرتی ہو،جو آپ پورے نہیں کرسکتے؟!
ان دونوں نے کہا: اﷲ کی قسم، اب آپ سے ہم کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے، جو آپ پورا نہ کرسکیں۔ پھر آپ ایک ماہ تک یا ۲۹ دنوں تک ان سب سے بالکل الگ رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی :
﴿یا ایہاالنبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیاة الدنیا و زینتہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الآیة﴾
﴿صحیح مسلم : 4.157.3763)
علامہ شبلیؒ ان دونوں باتوں کو صحیح قرار دیتے ہیں، ان کا نقطہ ٴنظر یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں ایلاءکا سبب بنیں، اور یہ دونوں ہی باتیں آگے پیچھے وقوع پذیر ہوئیں، وہ فرماتے ہیں:
﴿حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے جن معاملات کی وجہ سے ایکا کیا تھا،وہ خاص تھے، لیکن توسیع نفقہ کے تقاضے میں تمام ازواج مطہرات شریک تھیں۔ آنحضرت ﷺ کے سکون خاطر میں یہ تنگ طلبی اس قدر خلل انداز ہوئی، کہ آپ نے عہد فرمایا کہ ایک مہینے تک ازواج مطہرات سے نہ ملیں گے، اتفاق یہ کہ اسی زمانے میں آپ گھوڑے سے گر پڑ ے، اور ساق مبارک پر زخم آیا، آپ نے بالاخانے پر تنہا نشینی اختیار کی، واقعات کے قرینہ سے لو گوں نے خیال کیا کہ آپ نے تمام ازواج کو طلاق دیدی ۔﴾
﴿ملاحظہ ہو سیرة النبی : 1.551﴾
منفی نتائج سے چشم پوشی !
اس طرح ہمارے محدثین، مورخین، اور سیرت نگاروں نے ایلاء سے متعلق آنے والی ساری روایتوں کو بڑی فراخ دلی سے قبول کیا، اور ان میں واقعات کا جو اختلاف تھا اسے ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں قرار دے کرایلاء کے لیے جواز بھی فراہم کردیا، مگر ان تمام روایتوں سے آپ کی شخصیت، اور آپ کے خلق عظیم پرکتنے سوالیہ نشانات لگ جاتے ہیں! اس کا انہیں خیال نہیں آیا۔
انہیں اس کا بھی خیال نہیں آیا کہ ان روایتوں سے ا ہل بیت نبوت کی تصویر کس طرح مسخ ہوتی ہے! اور آپ کی خانگی زندگی کا کیا نقشہ سامنے آتا ہے! ان سب منفی نتائج کو انہوں نے بالکل نظرانداز کردیا۔
ان کی تسلی کے لیے اتنی بات کافی ہو گئی کہ: ( یہ کسی کا اعتقاد نہیں کہ ازواج مطہرات معصوم تھیں، یا اپنے انجاح مقصد کے لیے جائز وسائل نہیں اختیار کرتی تھیں )
( ملاحظہ ہو سیرة النبی :﴿1.550﴾
بلا شبہہ ازواج مطہرات معصوم نہیں تھیں، مگر اس کا کیا مطلب ہے؟ معصوم نہ ہونے کو بنیاد بناکرکوئی بھی برائی ان کی طرف منسوب کردی جائے؟ اور پھر جو بھی برائی ان کی طرف منسوب کی جائے، وہ قبول بھی کرلی جائے؟
واقعہ افک سے سبق!
ام المومنین حضرت عائشہؓ کے ساتھ جب افک کا واقعہ پیش آیا،اور صحابہ کی طرف سے منافقین کے اٹھائے ہوئے اس فتنے کو کچلنے کے لیے کوئی فوری اقدام نہیں ہوا، نیز معاملے کے طول پکڑ جانے کے نتیجے میں کچھ اچھے لوگ بھی اس فتنے سے متاثر ہو گئے، تو اﷲ تعالی نے اس کمزوری پرمومنین کو ان الفاظ میں سرزنش فرمائی :
لولا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بافسھم خیرا وقالوا ھذا افک مبین۔
﴿تم نے جب یہ بات سنی، تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے کیوں نہیں حسن ظن سے کام لیا؟ اور کیوں نہیں کہا: یہ تو کھلا ہوا جھوٹ اور سراسر الزام ہے ؟!﴾
پھر کچھ آگے چل کر فرمایا :
ولو لا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بھذا سبحانک ھذا بھتان عظیم۔
﴿اور تم نے جب یہ الزام سنا تو سنتے ہی کیوں نہیں کہا: ممکن نہیں کہ یہ بات ہم اپنی زبان سے نکالیں، خدایا! یہ تو بڑی زبردست تہمت ہے !!﴾
آج ایلاء کا قصہ بھی امہات المومنین سے ہی تعلق رکھتا ہے، افک کا قصہ ہماری ایک ماں سے تعلق رکھتا تھا، ایلاءکا قصہ ہماری ساری ماوٴں سے تعلق رکھتا ہے، لہذا اس سلسلے میں ہمارا وہی موقف ہوگا، جو واقعہٴ افک کے مو قع پر تمام مومنین سے مطلوب تھا ۔
ان روایتوں میں امہات المومنین کے بارے میں جتنی باتیں بھی کہی گئی ہیں، وہ سب جھوٹ اور دشمنوں کا پروپیگنڈا ہے، ان میں سے بس اتنی ہی بات صحیح ہے جتنی قرآن پاک میں بیان ہوئی ہے، یعنی یہ کہ حضور ﷺ نے کسی بی بی سے کوئی راز کی بات کہی تھی، وہ اسے راز نہ رکھ سکیں، انہوں نے کسی دوسری بی بی کو از راہ دوستی وہ بات بتادی، جس پر ﷲ تعالی کی طرف سے عتاب آیا۔
اس پر ﷲ تعالی کی طرف سے عتاب آیا، لیکن حضور ﷺ نے ایلاء نہیں کیا، ایلاء کی پوری داستان سراسر جھوٹ ہے۔
راویوں کا حال !
ہوسکتا ہے کچھ روایت پرستوں کو اس پر اعتراض ہو، کہ صحیحین کی روایتیں اتنی آسانی سے کیسے چھوڑی جا سکتی ہیں؟

About these ads

One thought on “سیرت کے قدیم مآخذ: قرآن پاک کی روشنی میں

  1. السلام علیکم
    میں نے اتفاق سے آپ کا مضمون پڑھا بہت اچھا لگا کیا کیا آپ کا کوئی ماہانہ مجلہ ہے یا صرف ویب پر ہی مضامین تحریر کرتے ہیں اگر مجلہ ہے تو کس طرح مجھے مل سکتا ہے میں انتظار کروں گا
    ادارے کے تمام احباب کو میرا سلام
    دعاگو اور دعاجو
    شاہ فیض الابرار صدیقی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s