سیرت کے قدیم مآخذ: قرآن پاک کی روشنی میں

یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر جتنا کچھ لکھا گیا ہے پوری تاریخ انسانی میں کسی اورکی حیات پرنہیں لکھا گیا آپ کے ماننے والوں نے بھی آپ پر جی کھول کرلکھا ہے اور نہ ماننے والوں نے
بھی، یہ الگ بات ہے کہ ان کے جذبات و محرکات الگ الگ رہے ہیں۔
پڑھنا جاری رکھیں→

سماجی علوم کا نصب العین اور طریقہ کار

یہ موضوع بحث کے تفصیلی مطالعے کے بعد لکھی گئی کوئی باضابطہ، مربوط اور منظم تحریر نہیں ہے۔اس میں سائنسی اور سماجی علوم کے نصب العین اور طریقہ کار کے سلسلے میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس کی نوعیت صرف ایک سرسری اور طائرانہ نظر کی ہے۔ سائنسی و سماجی علوم میں اوپر اور دور سے جو کچھ نظر آتا ہے بس اسی کو پیش نظر رکھ کر ایک بے ضابطہ سا مقدمہ قائم کیا گیا ہے ۔ اس لیے اس تحریر کو مصنف کی طرف سے حرف آخر نہ سمجھا جائے۔
پڑھنا جاری رکھیں→

عاشورہ کا روزہ اور یہود و نصاریٰ کی مخالفت

کہا کہ:” اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے ۔موسیٰ نے عرض کیا ”پروردگار، میرا سینہ کھول دے، اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں‘‘(۴۲-۸۲:طٰہ)۔ یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے۔

پڑھنا جاری رکھیں→

درایت لوگو

یہ ڈیجیٹل تصویر  معروف شاعر اور فنکار عادل منصوری مرحوم کی تخلیقی قوت کا ایک نادر نمونہ  ہے۔ کورل سافٹ ویر پربنی ہوئی یہ تصویر موصوف نےجولائی ۲۰۰۷ میں نیو جرسی، امریکہ سے درایت کے لیے بطور خاص بھیجی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں→

ایک داعی سے مکالمہ

[میں نے فیس بک پر ’’دعوتی نقطہ نظر کی خامیاں‘‘ کے عنوان سے ایک نوٹ لکھا تھا۔ درج ذیل تحریر میرے اسی نوٹ پر جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب کے ایک تبصرے کا تفصیلی جواب ہے۔ شروع میں ان کا نام حذف کر دیا گیا تھا، لیکن اب چونکہ خود انہوں نے میرے اس جواب پر اپنا تفصیلی ردعمل درایت پر پوسٹ کیا ہے اس لیے اس کی ضرورت نہیں رہی کہ ان کا نام حذف کیا جائے۔ قارئین چاہیں تو فیس بک پر میرا وہ نوٹ پڑھ سکتے ہیں۔ میں کوشش کروں کا کہ زبان و بیان کے اعتبار سے مذکورہ نوٹ کی تصحیح کے بعد اسے بھی درایت پر پوسٹ کردوں تا کہ قارئین بحث کے تمام تر پہلووں سے واقف ہو سکیں۔]

پڑھنا جاری رکھیں→

اردو کے حق میں ایک کتاب

چند ماہ قبل سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے موجودہ چیئرپرسن جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے حکومتِ ہند سے غالب کو ہندوستان کے سب سے اعلیٰ شہری اعزاز ”بھارت رتن“ سے نوازنے کی اپیل کی تھی۔ جسٹس کاٹجو کا کہنا تھا کہ اردو میں یوں تو بہت سارے اعلیٰ درجہ کے شاعر ہوئے ہیں، لیکن غالب ان میں سب سے منفرد ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ غالب کا شمار صرف اعلیٰ شاعروں میں ہی نہیں بلکہ جدید ہندوستان کے معماروں میں بھی کیا جانا چاہئے۔
پڑھنا جاری رکھیں→

خدا نے دنیا کو کیوں پیدا کیا ہے؟

یہ ایک سوال ہے جو ایک ہندو سوسائٹی نے مجھ سے کیا ہے۔
یہ سوال خالص مذہبی ہے۔ یعنی یہ جستجو اسی شخص میں پیدا ہو سکتی ہے جو خدا کے وجود کا قائل ہے اور ایشور کا پایا جانا تسلیم کر چکا ہے۔ لیکن جو منکر خدا ہے وہ کون، اور کس نے کی گفتگو نہیں کرتا بلکہ اس کی تلاش یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم کیونکر ظہور میں آیا، اور اس کے اندر انسان کی حیثیت کیا ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں→

دعوت، ادعائیت، تحکمیت

[1]

عالم اسلام میں، تمام تر فکری، مذہبی، تہذیبی و ثقافتی، سیاسی، اور تاریخی اختلافات، تنازعات اور تفرقوں، اورتمام ترگروہ بندیوں، تحریکوں، فرقوں اور مسلکوں کے باوجود، کم از کم ، یہ بات متفق علیہ ہے کہ اسلام ایک آسمانی یا الٰہی مذہب ہے۔ امتِ واحدہ کے مختلف فیہ اور متنازعہ امور کی موجودہ کثرت کے فکری، فقہی، تحریکی اور فرقہ وارانہ صورت حال میں، اور اعتدال پسند، انتہا پسند، بنیاد پرست اور ترقی پسند اسلام کی مغربی تقسیموں کے موجودہ عالمی منظرنامہ میں، اسلام وہ ہے، عالم اسلام کے افراد، مقامی معاشرے، تہذیبیں ، مکاتب، مسالک، خانقاہیں، فرقے، تنظیمیں اور تحریکیں جس کی مشق کرتی ہیں؛ اسلام وہ ہے، مسلمان، اپنے تمام تراختلافات، تنازعات اور مناقشات کے باوجود، جس پر انتہائی شرح صدر اور یقین کامل کے ساتھ، اور انتہائی سختی یا کم از کم انتہائی اصرار کے ساتھ، عمل پیرا ہیں—
پڑھنا جاری رکھیں→